
میں اچانک اکیلا ہو گیا ، ہر کوئی مجھے غلط کہہ رہا ہے حالانکہ میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ۔۔۔ ڈسکہ واقعہ کے بعد پہلی بار انصر جٹ المعروف مسٹر پتلو کا بیان سامنے آگیا ۔۔۔ اپنی ایک ویڈیو میں مسٹر پتلو نے کہا ۔۔ن کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے یہ میری آخری ویڈیو ہو، مجھے مار دیا جائے یا میں کچھ کوئی انتہائی قدم اٹھا لوں بڑے بڑے لوگ جو میرے ساتھ رابطے میں تھے، مجھے استعمال کرتے تھے، اب مجھے اکیلا چھوڑ گئے ہیں، میں اس وقت ایک گاؤں میں اکیلا ہوں، بستر سے اٹھنے اور چلنے سے قاصر ہوں، اس لیے پولیس کے سامنے پیش نہیں ہو سکتا، مسٹر پتلو نے روتے ہوئے کہا کہ میری نیت بالکل ٹھیک تھی میں غریبی سے امیری کی طرف آیا ہوں اور چاہتا تھا کہ اپنی خوشی میں بھی غریبوں کا بھلا کروں ۔۔۔ لیکن ڈسکہ میں پیش آنے والے اس ناگہانی حادثے کو میرے اوپر ڈال دیا گیا ہے، اس سانحے میں میرا کوئی ذاتی قصور نہیں ہے اور نہ ہی میں نے کبھی ایسا خوفناک واقعہ سوچا تھا۔ویڈیو کے دوران مسٹر پتلو نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ اس پورے حادثے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، انصر جٹ کا کہنا تھا کہ تقریب میں آنے والے تمام لوگ میرے مہمان تھے اور میں نے اپنی خوشیاں اپنے غریب عوام کے ساتھ سانجھ کرنے کی کوشش کی تھی مگر حالات اس نہج پر پہنچ جائیں گے اس کا انہیں اندازہ نہیں تھا، اگر قانون یا انصاف کا تقاضا یہی ہے تو میں ہر قسم کی سزا بھگتنے یا مرنے کے لیے بھی تیار ہوں لیکن اتنی ہی التجا ہے کہ اس حادثے کو غلط رنگ نہ دیا جائے۔یاد رہے کہ مستر پتلو کی مہندی کی تقریب میں قیمتی انعامات اور بھاری رقم کے اعلانات کے بعد ہزاروں افراد کا جمِ غفیر امڈ آیا تھا، جس کے نتیجے میں مچنے والی بھگدڑ سے 2 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے ۔ اس واقعہ کے بعد مسٹر پتلو منظر عام سے غائب اور کہیں روپوش ہیں ۔۔