
اکثر کہا جاتا ہے اگر آپ کے پاس پیسہ ہے تو بہت ساری چیزیں ممکن ہوجاتی ہیں۔ بہت سے شوق پورے ہوجاتے، انسان کے پر بھی نکل آتے وہ سمجھتا کہ شائد میں سب کچھ ہی کرسکتا ہوں۔ اور وہ اپنے دور کے مطابق ہر شوق پورا کرنے میں لگ جاتا ہے
جس دور کی اس واقعے میں بات ہورہی وہ تھا فلم انڈسٹری کا گولڈن پیریڈ جب پنجاب خاص کر لاہور شوبز کلچر کا مرکز تھا اور یہاں بننے والی فلمیں بلاک بسٹر ہوا کرتی تھی۔ اس دور میں کچھ ہیروئنز شائقین کے دلوں پر راج کیا کرتی تھیں جن میں ایک نام فردوس بیگم تھی۔ پنجاب کی ہیر فردوس۔ فلم ملنگی سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والی فردوس نے ہیر رانجھا جیسی شہرہ آفاق فلمیں دیں جو لالی ووڈ کی تاریخ کی سب سے بڑی فلمیں تھیں۔ ان کے حسن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیٹ پر بھی زیادہ میک اپ وغیرہ نہیں کرتی تھیں۔
جب ایک ہٹ اداکارہ کی ایسی باتیں مشہور ہوں اور شائقین خود بھی سنیما گھروں میں جاکر اداکارہ کے حسن کے دیدار کرتے ہوں تو خواہش تو جنم لے گی ہی کہ ایسی اداکارہ کو کم از کم ملا جائے قریب سے دیکھا جائے۔
ایسی ہی کہانی ہے ایک پنڈ کے چودھری کی جو فردوس کے بہت بڑے فین تھے۔ کہاجاتا ہے کہ انہوں نے اپنی زمینیں بیچ کر لاہور کا رخ کیا اور ایک فلم بنانے کا ارادہ کیا۔ اس وقت کی بڑی کاسٹ کو اپروچ کیا۔ مشہور ہٹ رائٹر حزیں قادری کی کہانی، ہٹ ہیرو ساون، ڈائریکٹر بھی مشہور، اور اداکارہ فردوس من لیڈ رول میں۔ مطلب ٹھیک ٹھاک پیسہ لگایا۔ اور یوں شوٹنگ شروع ہوئی اور چوہدری صاحب چونکہ پروڈیوسر تھے تو سیٹ پر باقاعدہ آتے اور اپنی فلمی ہیر کو دیکھتے۔ دل بہلاتے۔
یہ فلم تھی ذیلدار اور یہ ہٹ بھی ہوئی۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ شوبز کی کمائی ہاتھوں ہاتھ کہیں اور لگ ہی جاتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان پرڈیوسر صاحب کو یہ بھی گمان ہوگیا تھا کہ شائد ان کی شادی کی بھی صورت نکل سکتی ہے۔ لیکن ایسا کچھ نہ ہوسکا۔
ڈسکلیمر:
یہ معلومات آن لائن یوٹیوب چینل سے سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں