
1971 کی جنگ نے صرف ملک کا نقشہ نہیں بدلا تھا بلکہ ایک ایسا خاندان بھی دو ملکوں میں تقسیم کردیا تھا جسے دوبارہ ایک دوسرے کے سامنے آنے میں نصف صدی سے زیادہ وقت لگ گیا۔
چکوال کے گاؤں چوآ گنج علی شاہ کے رہائشی عبدالرؤف پاکستان فوج میں ملازم تھے اور اُس وقت کے مشرقی پاکستان کے علاقے دیناج پور میں تعینات تھے۔ وہیں ان کی شادی بنگالی خاتون منورہ بیگم سے ہوئی اور ان کے پانچ بچے ہوئے۔ انہی بچوں میں افتخار حسین بھی شامل تھے۔
عبدالرؤف اپنی اہلیہ اور بچوں کو اپنے آبائی علاقے چکوال بھی لاتے رہے۔ افتخار حسین صرف چھ سال کے تھے جب وہ اپنے والد کے ساتھ پہلی مرتبہ اس گاؤں آئے۔ انہیں بچپن کی چند دھندلی یادیں تو رہ گئیں، مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ اگلی مرتبہ اسی جگہ واپس آنے میں انہیں پانچ دہائیوں سے زیادہ انتظار کرنا پڑے گا۔
1971 کی جنگ میں، افتخار حسین کے مطابق، ان کے والد عبدالرؤف جان سے گئے اور ان کی لاش بھی خاندان کو نہ مل سکی۔ منورہ بیگم پانچ بچوں کے ساتھ بنگلہ دیش میں رہ گئیں۔ بعد میں خاندان ڈھاکہ منتقل ہوگیا اور بچے وہیں بڑے ہوئے۔
پاکستان میں موجود عبدالرؤف کے بھائیوں اور رشتہ داروں کے لیے بھی یہ جدائی آسان نہیں تھی۔ کچھ عرصے بعد دونوں طرف خط و کتابت شروع ہوئی، لیکن ایک خط کا پہنچنا بھی اپنے آپ میں ایک مسئلہ تھا۔ افتخار حسین کی والدہ کے پاس پاکستان کا جو پرانا پتہ تھا اس میں چکوال ضلع جہلم کا حصہ درج تھا، جبکہ بعد میں چکوال الگ ضلع بن گیا۔ گاؤں کا پرانا نام بھی ان کے پاس ’’چوآ گنج البیر‘‘ درج تھا جو بعد میں ’’چوآ گنج علی شاہ‘‘ کے نام سے جانا جانے لگا۔
پھر زبان درمیان میں ایک اور دیوار بن گئی۔
بنگلہ دیش سے آنے والے خطوط بنگالی میں ہوتے تھے، جنہیں چکوال میں موجود خاندان خود نہیں پڑھ سکتا تھا۔ افتخار کے رشتہ دار ایک ایسے مقامی گھڑی ساز کے پاس خطوط لے جاتے جو بنگال میں رہ چکا تھا اور بنگالی زبان جانتا تھا۔ دوسری جانب افتخار حسین اردو رسم الخط نہیں پڑھ سکتے تھے، اس لیے ڈھاکہ میں ایک مسجد کے امام سے پاکستان سے آنے والے اردو خطوط پڑھواتے اور انہی کی مدد سے جواب لکھواتے تھے۔
افتخار کے کزن آفتاب حسین کے مطابق بنگلہ دیش سے آنے والا خط پورے خاندان کے لیے انتہائی جذباتی لمحہ ہوتا۔ بعض خطوط بار بار پڑھے جاتے اور برسوں کی جدائی کا درد پھر تازہ ہوجاتا۔ لیکن وقت کے ساتھ خطوط کم ہوتے گئے اور بالآخر 1990 کی دہائی کے آغاز تک دونوں خاندانوں کا رابطہ مکمل طور پر ختم ہوگیا۔
پھر کئی دہائیوں بعد وہ کام Facebook نے کیا جو پرانے پتے اور خطوط نہیں کرسکے تھے۔ افتخار حسین کے چھوٹے بھائی عبد الخالق نے تقریباً دس سال قبل Facebook پر اپنے والد عبدالرؤف کی پرانی تصاویر لگائیں اور ساتھ چکوال میں موجود خاندان کو تلاش کرنے کی اپیل کی۔ معلومات انتہائی محدود تھیں اور پتہ بھی واضح نہیں تھا۔
یہ پوسٹ چکوال کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ارشد محمود کی نظر سے گزری۔ ارشد محمود نے اسے محض ایک پرانی تصویر سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا۔ انہوں نے اس سراغ کو پکڑا کہ ایک پاکستانی فوجی مشرقی پاکستان میں رہ گیا تھا اور اس کا تعلق چکوال سے تھا۔ انہوں نے مختلف علاقوں میں لوگوں سے رابطے شروع کیے، پرانے خاندان کے بارے میں پوچھتے رہے اور اسی تلاش کے دوران بالآخر ان کا رابطہ راجہ آفتاب حسین اور ان کے بھائیوں سے ہوگیا۔
یہ وہی خاندان تھا جسے بنگلہ دیش میں موجود عبدالرؤف کے بچے دہائیوں سے ڈھونڈ رہے تھے۔ ارشد محمود کی کوشش سے دونوں طرف کے رشتہ داروں کا رابطہ بحال ہوگیا اور WhatsApp نے وہ فاصلہ چند لمحوں میں ختم کردیا جسے کبھی ایک خط طے کرنے میں ہفتے لگ جاتے تھے۔ لیکن رابطہ مل جانے کے باوجود افتخار حسین فوراً پاکستان نہ آسکے۔ وہ بنگلہ دیش میں ایک بینک میں ملازم تھے اور انہیں عملی طور پر اس سفر کے لیے کئی سال مزید انتظار کرنا پڑا۔
بالآخر ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد جنوری 2025 میں تقریباً 60 سالہ افتخار حسین پاکستان پہنچے۔ 30 جنوری 2025 کو وہ تقریباً 54 سال بعد اپنے والد کے آبائی گاؤں چوآ گنج علی شاہ پہنچے۔ وہی گاؤں جسے انہوں نے چھ سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ دیکھا تھا۔
اس مرتبہ والد ان کے ساتھ نہیں تھے۔ ان کی والدہ منورہ بیگم بھی 2007 میں دنیا سے جا چکی تھیں، جبکہ ان کے ایک بھائی اور ایک بہن کا بھی انتقال ہوچکا تھا۔ نصف صدی کے انتظار کے دوران خاندان کی ایک پوری نسل دنیا سے رخصت ہو چکی تھی۔
لیکن جب افتخار گاؤں پہنچے تو باقی خاندان اور گاؤں والوں نے انہیں ڈھول، پھولوں کے ہار اور خوشی کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ افتخار حسین کے مطابق پورا گاؤں راستے میں کھڑا تھا اور ان کا استقبال کسی خاص مہمان کی طرح کیا گیا۔
وہ اپنے ساتھ اپنے والد عبدالرؤف، والدہ منورہ بیگم، بہن بھائیوں کی پرانی تصاویر اور وہ خطوط بھی پاکستان لائے جو کبھی دونوں ملکوں کے درمیان اس خاندان کا واحد رابطہ ہوا کرتے تھے۔
ایک تصویر سے شروع ہونے والی Facebook پوسٹ، ایک نامکمل پتہ اور ارشد محمود کی مسلسل تلاش نے بالآخر دو ملکوں میں بٹے ایک خاندان کو دوبارہ جوڑ دیا۔