نانا پاٹیکر نے جب اپنے گلے کا تعویز کھول کر لوگوں کو دکھایا تو اس پر کیا لکھا تھا؟

غربت کی تپتی ہوئی سڑکوں، فاقہ کشی کے موڑ اور تھیٹر کے تپتے ہوئے اکھاڑوں سے نکل کر شہرت کا سمندر تسخیر کرنے والی ایک ایسی بے باک شخصیت جو زندگی اور موت دونوں کو اپنے ہی وضع کردہ اصولوں پر جھکاتی رہی۔ نانا پاٹیکر کی زندگی کسی عام اداکار کا سفر نہیں، بلکہ ایک ایسی کھری اور صاف گو روح کی کہانی ہے جس نے نہ کبھی حالات کے سامنے سر جھکایا اور نہ ہی شہرت کی چمک دھمک کو اپنے اندر کی سچائی پر حاوی ہونے دیا۔ اپنی موت کے بارے میں ان کے کہے گئے الفاظ ان کے فلسفہٴ حیات کا نچوڑ ہیں، جب انہوں نے اپنی ہی لکڑیوں پر جلنے کا تذکرہ اس جرات مندانہ اور بے تکلف انداز میں کیا کہ سننے والا دم بخود رہ جائے؛ وہ کہتے تھے کہ وہ اپنے فارم میں سوکھی لکڑیاں اسی لیے اگا رہے ہیں تاکہ جب وہ اس فانی دنیا سے رخصت ہوں تو دھواں کم ہو اور دوستوں کی آنکھوں سے نکلنے والے سچے اور جھوٹے آنسوؤں کا فرق صاف نظر آسکے۔ زندگی اور عدم کے اس باریک فرق کو مسکراتے ہوئے چیلنج کرنے والا یہ عظیم فنکار آخر کار گوا کے ڈونا پاؤلا میں اپنے اس گھر میں خاموش ہو گیا جس کے سامنے سمندر کی موجیں ابد تک ٹکراتی رہیں گی۔

سمندر سے ان کا عشق محض ایک اتفاق نہیں تھا بلکہ بچپن کی ان یادوں کا تسلسل تھا جب ساتویں جماعت میں ان کی والدہ نے انہیں سدھارنے کی غرض سے مرود جنجیرا بھیج دیا تھا، لیکن خالہ نے اس ڈر سے واپس بھیج دیا کہ کہیں یہ دوسری اولاد کو بھی نہ بگاڑ دے۔ اسی مرود میں ساحل پر کھڑے ہو کر لہروں کو تکتے ہوئے ان کی آنکھوں میں چھوٹی چیزوں کے بجائے سمندر کی طرح بڑا بننے کی حسرت نے جنم لیا۔ مگر اس ظاہری سمندر سے بڑا ایک اور خوفناک سمندر تھا جس سے نانا کا واسطہ بچپن ہی میں پڑ گیا—اور وہ تھا غربت، بھوک اور بے قدری کا سمندر۔ والد کا کپڑے کا کاروبار دھوکے کی نذر ہوا تو خاندان کی جمع پونجی ختم ہو گئی، اور پھر تیرہ سال کا وہ بچہ جس نے کبھی سکون کا سانس نہیں لیا تھا، پینٹنگ اور فلموں کے پوسٹر بنا کر گھر کا بوجھ اٹھانے لگا۔ سخت کڑکتی دھوپ میں روزانہ سولہ کلومیٹر پیدل چل کر دادر جانا، پینتیس روپے ماہانہ کی ملازمت اور ایک وقت کی روٹی پر گزارا کرنا، یہ وہ بھٹی تھی جس نے نانا کو اندر سے کندن بنا دیا۔ وہ فوج میں جانا چاہتے تھے مگر والدین کی ناپسندیدگی کی وجہ سے نہ جا سکے، لیکن آگے چل کر اپنی شاہکار فلم ’پراہار‘ میں انہوں نے اپنے اس ادھورے خواب کو ہدایت کاری کے ذریعے یوں بسا دیا کہ لوگ دنگ رہ گئے۔

تھیٹر کی دنیا میں ان کی آمد بھی ایک عجیب اور حیات آفریں اتفاق تھا۔ اگر انہیں وجیا مہتا، اروند دیش پانڈے اور سلبھا دیش پانڈے جیسے استاد نہ ملتے تو نانا کے بقول شاید وہ انڈر ورلڈ کی تاریکیوں میں گم ہو چکے ہوتے۔ ملازم پیشہ نانا کو جب سلبھا تائی نے ڈرامے ’چھنگُنا‘ اور پھر ’پروش‘ میں کام دیا تو ان کے اندر کے فنکار کو پہچان مل گئی۔ وہ اپنے سینئر فنکار اشوک صراف کے پاؤں دباتے اور مالش کرتے تو وہ شفقت اور ہمدردی میں انہیں تین روپے دے دیا کرتے تھے؛ یہاں تک کہ تاش کھیلتے ہوئے بھی اشوک صراف جان بوجھ کر نانا سے ہار جاتے تاکہ ان کی غیرتِ نفس کو مجروح کیے بغیر ان کی مالی مدد کی جا سکے۔ ان عظیم فنکاروں کا یہ بے تکلف اور مخلصانہ رشتہ عمر بھر قائم رہا۔ نانا کی وفاداری کا یہ عالم تھا کہ جب دور دراز کے ایک قصبے میں ڈرامہ ’حمیدہ بائی کی کوٹھی‘ کے دوران ہجوم نے فنکاروں پر حملہ کیا، تو اپنی جان پر کھیل کر نانا پاٹیکر اشوک صراف کا ہاتھ تھام کر انہیں محفوظ عقبی راستے سے نکال لے گئے۔

نانا پاٹیکر سیاسی نظریات اور عقائد کے تنگ خانوں میں قید ہونے والے انسان نہیں تھے؛ وہ ایک آزاد پرندے کی مانند تھے جو اپنی مرضی کی شاخ پر بیٹھنا پسند کرتا تھا۔ بال صاحب ٹھاکرے ہوں یا بابا آمتے، وہ سب سے یکساں عقیدت رکھتے اور صاف لفظوں میں کہتے کہ اگر خدا ہر جگہ موجود ہے تو درگاہوں اور مندروں کا سفر کرنے کے بجائے انسان جہاں کھڑا ہو کر ہاتھ جوڑ لے، سچا معبود وہیں نازل ہو جاتا ہے۔ قرآن کی آیات سے لے کر گلے کے تعویذ اور کرشنا کی عقیدت تک، وہ ہر اس شے کو قبول کرتے جو محبت کا پیغام دیتی۔ غربت کی خاک چاٹ کر اور بے قدری کے طوفانوں سے لڑ کر مراٹھی اور ہندی سینے میں ہیرو، ولن اور معاون کرداروں کے ذریعے ان مٹ نقوش چھوڑنے والے اس نڈر اور سچے فنکار نے ثابت کر دیا کہ انسان کا قد پائیدار سچائی اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے سے بڑھتا ہے—ٹھیک اسی سمندر کی طرح جس کی موجوں کا غرور کبھی کم نہیں ہوتا۔

#urduspot
ڈسکلیمر:
یہ معلومات مختلف آن لائن ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں اور صرف اور صرف تفریحی و معلوماتی مقاصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد کسی فرد، ادارے، نظریے یا واقعے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا یا کسی مخصوص نقطۂ نظر کی تائید کرنا نہیں۔ قارئین و سامعین سے گزارش ہے کہ وہ اس مواد کو اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق دیکھیں

Leave a Comment