قصور میں پیش آئے ا افسوسناک واقعہ روداد

کیا ایک چھپکلی میں اتنا ز۔ہر تھا کہ پورا خاندان مر گیا ۔۔۔۔ قصور کے علاقہ کنگن پور میں پیش آیا واقعہ اور لوگوں کے تحفظات : اس گاؤں کے مکین بتاتے ہیں کہ کھیر میں چھپکلی گرنے کے واقعہ کا ابتدا میں کسی نے تذکرہ نہیں کیا مگر اس خاندان کے رشتہ داروں کے مطابق خاندان کے سربراہ قاسم علی نے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں خود ڈاکٹروں کو بتایا تھا کہ کھیر میں چھپکلی گری تھی جسے ناصرف انھوں نے نکال کر پھینک دیا تھا بلکہ اس کے ارد گرد موجود کھیر کو بھی نکال کر ضائع کر دیا تھا جس کے بعد خاندان نے کھیر کھائی۔یاد رہے کہ خانیکے گاؤں پاکستان اور انڈیا کی باؤنڈری لائن کے بالکل قریب واقع ہے، جہاں طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ ‘یہاں نہ تو بڑا ہسپتال ہے اور نہ ہی کوئی تعلیمی ادارہ۔ ایسے میں ہم گاؤں والے علاج کی بجائے پیروں فقیروں سے دم کرانا آسان سمجھتے ہیں ۔ اس گاؤں کے لوگ دریا کی ریتلی زمین سے گزرنا دشوار سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ شہر کی طرف کم ہی آتے ہیں اور بظاہر اس واقعے کے بعد انھوں نے شہر آ کر اپنا علاج کروانے کی بجائے گاؤں میں ہی دم کروانے اور دیسی ٹوٹکے استعمال کرنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہے۔محمود خانیکے میں لوگوں کا ذریعہ معاش مویشی پالنا اور کھیتی باڑی ہے۔ متاثرہ خاندان ایک بیٹا اور ایک بیٹی زندہ بچ گئے ہیں کیونکہ وہ شادی شدہ تھے اور الگ گھروں میں رہے تھے۔۔۔ یہ لوگ امن پسند تھے اور اُن کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی، کوئی نہیں جانتا کہ ان کی موت کا ذمہ دار کون ہے۔‘’ اس خاندان کے سربراہ قاسم علی سادہ لوح اور نڈر انسان تھے جو اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ بہر حال اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ کھیر میں چھپکلی تھی یا کچھ اور، نہیں معلوم۔ ’ہمارے لیے یہ بات باعث تشویش ہے کہ ایک چھپکلی میں آخر کتنا ز۔ہر ہو سکتا ہے کہ اس نے پانچ لوگوں کی جان لے لی۔ پولیس کو چاہیے کہ وہ واقعہ کی تحقیقات اور تفتیش کرے اور چھپکلی گرنے یا گرائے جانے سمیت دیگر تمام پہلوؤں پر بھی غور کرے ۔۔۔

Leave a Comment