اللہ کسی کو حسن دے تو ساتھ میں عقل اور ایمان کی دولت بھی عطاء کرے۔۔۔

اللہ کسی کو حسن دے تو ساتھ عقل اور ایمان بھی دے : شاد باغ لاہور کی صاعقہ کی سچی کہانی : حکومت کچھ کر سکتی ہے تو کرے ورنہ ہم وہ کریں گے کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ، بعد میں شور نہ مچانا کہ ہم نے اپنی بیٹی اور بہو کے ساتھ ظلم کیا ہے ۔۔۔۔سسرا لیوں اور میکے والوں کا اعلان ۔۔۔واقعہ کچھ یوں تھا کہ کہ ایک شادی شدہ اور 2 بچوں کی ماں صاعقہ نے چھوٹی بہن کی منگنی ہونے کے بعد اسکے منگیتر سے تعلقات بنا لیے ، ایک سال پہلے بھی یہ گھر سے بھاگ گئی ، ایک فون کال سے اسے ٹریس کر لیا گیااور نوابشاہ سے پولیس کی مدد سے واپس لایا گیا ، یہ 4 ماہ باپ کے گھر رہی ، والد نے محبت اورسختی سے بیٹی کو سمجھایا کہ اگر تم اپنے شوہر کو چھوڑنا چاہتی ہو تو چھوڑ دو گھر بیٹھ جاؤ اسکے بچے اسے واپس کردو مگر بیٹی نے کہا جہاں میرے بچے وہاں میں ۔۔۔ اس نے ہم سب سے پیر پکڑ کر معافیاں مانگیں ، میں نے اپنے بھائی اور اسکے بیٹے یعنی داماد کی منتیں کیں ،صاعقہ کی خواہش پر اسے دوبارہ اسکے گھر میں بسایا مگر وہ نہ صرف میکے کو دھوکا دیتی رہی بلکہ سسرال میں بیٹھ کر انکی آنکھوں میں دھول جھونکتی رہی ، اس نے شوہر کی منت کرکے فون واپس لے لیا تھا ، میرا بھتیجا سادہ سا آدمی ہے اسے عورت کی چالاکی سمجھ نہ آئی ، میں نےاسے کہا تھا کہ گھر سے نکلنے نہ دینا لیکن اس نے شوہر پر اپنا اعتبار جمایا اور پھر اسکا گھر برباد کرکے دوبارہ چھوٹی بہن کے منگیتر کے ساتھ بھاگ گئی ہے ۔۔اس بے حیا کی وجہ سے اب اسکی چھوٹی بہن کا رشتہ کوئی نہیں لے گا لوگ کہیں گے کہ پہلے بڑی بدکردار نکلی چھوٹی بھی ویسی ہی ہوگی ، ہم کریں تو کیا کریں ، مجھے پتہ ہوتا کہ یہ اتنے دھوکہ باز نکلے گی تو میں اسے گھر میں ہی ق۔ت۔ل کردیتا ، اب بھی جس دن میرے سامنے آگئی میں نے اسے نہیں چھوڑنا اس نے ہماری ناک کا۔ٹ دی ہے ۔۔۔۔۔ صاعقہ کے شوہر کے مطابق وہ میری بیوی ہو کر میرے ساتھ سو کر اور میرے گھر میں رہتے ہوئے دوسرا نکاح کیسے کر سکتی ہے ، لیکن اس نے نہ جانے کیسے خلع بھی لے لی نکاح بھی کر لیا اور ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ، تھانے کچہری گئے تو انہوں نے کہا نکاح موجود ہے اب کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔صاعقہ کے سسر کے بقول : اب بہتر یہی ہے کہ وہ واپس نہ آئے کیونکہ واپسی میں اسکی موت ہے لیکن ہم صرف اپنے بچے واپس چاہتے ہیں ۔ ہم نہیں چاہتے ہمارے بچے بدکردار لوگوں کے پاس رہیں ، ہم گھر میں بند ہو کر بیٹھے ہیں شرم سے باہر نہیں نکلتے ، پولیس اور عدالتیں ہمارے کیس کو دیکھیں ہمیں بچے واپس دلا دیں صاعقہ جائے بھاڑ میں ۔۔۔ لیکن اگر حکومت نے ہماری مدد نہ کی تو پھر ہم سے بچوں کی خاطر جو کچھ ہو سکا کریں گے، بعد میں ہمیں کوئی غیرت کے نام پر ق۔ت۔ل اور عورت پر ظلم کی داستانیں سنا کر مجرم اور گناہ گار نہ بنائے ۔۔۔

Leave a Comment