بچپن میں اغواء ہونیوالی عظمی کو کیسے ولی اللہ معروف دوبارہ اپنے خاندان سے ملوایا؟

کراچی کی ایک ننھی بچی کو کیا معلوم تھا کہ ایک شخص کے ساتھ جانے کے بعد اس کی زندگی سے گھر، ماں باپ اور بچپن کا سکون سب چھن جائے گا۔ عظمیٰ کی ویڈیو میں بیان کردہ داستان ایک ایسی بچی کی کہانی ہے جو اپنوں سے بچھڑنے کے بعد برسوں ظلم سہتی رہی، جبکہ کراچی میں اس کے گھر والے اس کی واپسی کی راہ دیکھتے رہے۔ وقت گزرتا گیا، بچی بڑی ہو گئی، لیکن اس کے ماضی اور خاندان کے درمیان ٹوٹا ہوا رابطہ جڑ نہ سکا۔ پھر برسوں بعد ایک بچے کے سکول نہ جانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال نے اس کہانی کو ایک نیا رخ دے دیا۔

عظمیٰ کے مطابق، تقریباً 20 سال پہلے جب وہ بہت چھوٹی اور ناسمجھ تھیں، ایک شخص انہیں کراچی سے دھوکے سے اپنے ساتھ لے گیا۔ ابتدا میں اس نے انہیں اپنے پاس رکھا اور ان پر شدید تشدد کیا، پھر انہیں اپنے ماموں کے بیٹے کے گھر پہنچا دیا۔ وہاں بھی انہیں تحفظ نہ ملا؛ قید جیسی حالت میں رکھ کر ان سے گھر کے کام کروائے جاتے تھے۔ کچھ عرصے بعد انہیں ایک اور خاندان کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا۔ گھر بدلا، مگر ان کی تکلیف ختم نہ ہوئی۔ اس نئے گھر میں بھی مار پیٹ اور سخت مشقت ان کی زندگی کا حصہ بن گئی۔ جس عمر میں ایک بچی کو اپنے والدین کی محبت اور حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے، عظمیٰ اس عمر میں ایسے لوگوں کے درمیان تھیں جو ان سے کام لیتے اور ان پر ظلم کرتے تھے۔

ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ اسی علاقے میں رہنے والے ایک بزرگ اور ان کی اہلیہ نے عظمیٰ پر ہونے والے تشدد کی آوازیں سنیں۔ راتوں کو ہونے والی مار پیٹ اور اس بچی کی تکلیف ان سے برداشت نہ ہوئی۔ بالآخر ان بزرگ نے 70 ہزار روپے دے کر عظمیٰ کو ان لوگوں سے چھڑایا اور اپنے گھر لے آئے۔ انہوں نے عظمیٰ کو اپنی منہ بولی بیٹی بنایا اور انہیں وہ تحفظ دیا جس سے وہ ایک طویل عرصے سے محروم تھیں۔ بعد میں انہی بزرگ نے اپنے جاننے والے محمد بنارس سے عظمیٰ کا نکاح کروا دیا۔ عظمیٰ کی زندگی میں یہ ایک نئی شروعات تھی۔ بنارس نے انہیں عزت اور محفوظ گھر دیا، ان کا خاندان آباد ہوا اور ان کے ہاں سات بچے پیدا ہوئے۔ وہ سیالکوٹ کے قریب چاڑ باجوہ نامی گاؤں میں رہنے لگیں، مگر اپنے اصل والدین اور بہن بھائیوں سے ان کا رابطہ اب بھی نہیں تھا۔

دوسری طرف کراچی میں عظمیٰ کے گھر والے انہیں تلاش کرتے رہے۔ ویڈیو کے مطابق، ان کے والد اپنی بیٹی کی تصویر جیب میں رکھ کر اسے ڈھونڈتے رہے، لیکن بیٹی سے دوبارہ ملنے کی خواہش لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ عظمیٰ کی تلاش کی اگلی کڑی سیالکوٹ میں جڑی، جہاں ان کے شوہر محمد بنارس، عثمان شفیق کی «جاوی کرکٹ» نامی فیکٹری میں کام کرتے تھے۔ ایک دن عثمان شفیق نے بنارس کے بچے کو دیکھا اور پوچھا کہ وہ سکول کیوں نہیں جاتا۔ اس سوال کے جواب میں بنارس نے بتایا کہ ان کی اہلیہ کا شناختی کارڈ نہیں بن پا رہا، کیونکہ ان کے والدین اور خاندان کا کچھ پتہ نہیں۔ عثمان شفیق نے جب عظمیٰ کا پورا احوال سنا تو انہوں نے ولی اللہ معروف سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد عظمیٰ کی کہانی سوشل میڈیا پر سامنے لائی گئی تاکہ ان کے خاندان تک پہنچنے کا کوئی راستہ نکل سکے۔

یہی کوشش بالآخر ان کے بچھڑے ہوئے گھر والوں تک پہنچ گئی۔ کراچی میں عظمیٰ کے بڑے بھائی سجاد اور ان کی والدہ نے ویڈیو دیکھ کر انہیں پہچان لیا۔ جس بیٹی اور بہن کا برسوں سے کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا، وہ اب ان کے سامنے تھی۔ گھر والے کراچی سے سفر کرکے سیالکوٹ کے گاؤں چاڑ باجوہ پہنچے، جہاں تقریباً 20 سال بعد ماں اور بہن بھائیوں کی ملاقات ہوئی۔ ویڈیو میں اپنے بھائی کو دیکھ کر عظمیٰ پھوٹ پھوٹ کر روتی دکھائی دیتی ہیں اور جذبات کی شدت سے ان کی حالت غیر ہو جاتی ہے۔ برسوں کی جدائی کے بعد وہ اپنے گھر والوں کے سامنے تھیں، لیکن اس ملاقات میں ان کے والد موجود نہیں تھے، جو ان کی تصویر لیے انہیں تلاش کرتے کرتے دنیا سے جا چکے تھے۔

عظمیٰ کی داستان میں کئی لوگوں کی عملی کوششیں ایک دوسرے سے جڑتی نظر آتی ہیں: وہ بزرگ اور ان کی اہلیہ جنہوں نے ظلم دیکھ کر انہیں چھڑایا، محمد بنارس جنہوں نے انہیں عزت اور محفوظ زندگی دی، عثمان شفیق جنہوں نے ان کی بات سن کر تلاش کا راستہ کھولا، اور ولی اللہ معروف جن کے ذریعے ان کی کہانی خاندان تک پہنچی۔ ایک بچی کو اس کے گھر سے جدا کرنے والے ظلم کے بعد، انہی کوششوں نے برسوں بعد ایک ماں کو اس کی بیٹی اور بہن بھائیوں کو ان کی بچھڑی ہوئی بہن سے دوبارہ ملا دیا۔

ماخذ: ولی اللّٰہ معروف کے چینل پر اپلوڈ ہونے والی عظمیٰ اور ان کے اہلِ خانہ کی ویڈیو میں بیان کردہ تفصیلات۔

Leave a Comment