پیدل 314 دن کا سفر کرکے مکہ حج کے لیےپہنچنے والا بوسنیا کا “سناد”۔۔۔

دسمبر 2011 میں بوسنیا کے قصبے بانوویچی سے 47 سالہ سِناد ہادزچ نے مکہ مکرمہ کی طرف پیدل سفر شروع کیا۔ حج پر جانے کے لیے پیسے نہیں تھے، اس لیے اس نے تقریباً 5,700 کلومیٹر طویل راستہ اپنے قدموں سے طے کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ بوسنیا، سربیا، بلغاریہ، ترکی، شام اور اردن سے گزرتا ہوا 314 دن بعد اکتوبر 2012 میں مکہ مکرمہ پہنچا۔

یہ سفر ہر قدم پر آزمائش تھا۔ بلغاریہ میں منفی 35 ڈگری کی سردی اور اردن میں 44 ڈگری گرمی برداشت کی۔ استنبول میں آبنائے باسفورس کا پل پیدل عبور کرنے کی اجازت کے لیے کئی ہفتے انتظار کیا، جبکہ سعودی عرب کا ویزا حاصل کرنے کے لیے اردن کی سرحد پر دو ماہ رکنا پڑا۔

سب سے خطرناک مرحلہ جنگ زدہ شام تھا۔ سِناد نے صرف 11 دن میں شام کے اندر تقریباً 500 کلومیٹر سفر کیا، حلب اور دمشق سے گزرا اور حکومتی فوج و مخالف جنگجوؤں کی درجنوں چوکیوں کا سامنا کیا۔ ایک چوکی پر اس کا بیگ خالی کروایا گیا، مگر جب سپاہیوں نے قرآن پاک دیکھا اور معلوم ہوا کہ وہ حج کے لیے پیدل جا رہا ہے تو اسے آگے جانے دیا۔

راستے میں وہ مساجد، سکولوں اور مہربان لوگوں کے گھروں میں رات گزارتا رہا۔ بالآخر 314 دن کی تھکن، سردی، گرمی اور طویل انتظار کے بعد وہ حج سے چند روز پہلے مکہ مکرمہ پہنچ گیا۔ منزل پر پہنچ کر اس کے الفاظ تھے: “میں تھکا نہیں، یہ میری زندگی کے بہترین دن ہیں۔”

یہ صرف 5,700 کلومیٹر کا پیدل سفر نہیں، بلکہ یقین، صبر اور حج کی بے مثال تڑپ کی ایک زندہ داستان ہے۔

Leave a Comment